گلاسگو( نیوز ڈیسک) پاکستانی باکسر فاطمہ زہرا نے کامن ویلتھ گیمز 2026 میں کانسی کا تمغہ جیت کر پاکستان کی کھیلوں کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر دیا۔ وہ کامن ویلتھ گیمز کی باکسنگ میں پاکستان کے لیے تمغہ جیتنے والی پہلی خاتون باکسر بن گئی ہیں۔یہ 2026 کے کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کا پہلا میڈل بھی ہے۔
سیمی فائنل میں ان کا مقابلہ کینیڈا کی تجربہ کار باکسر میری ال مہدیہ سے ہوا، جہاں فاطمہ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم سیمی فائنل تک رسائی کی بدولت انہیں کانسی کا تمغہ ملا اور وہ پاکستان کے لیے تاریخی اعزاز اپنے نام کرنے میں کامیاب رہیں۔
فاطمہ زہرا نے ایونٹ کے ابتدائی مرحلے میں لیسوتھو کی ریلیبوہ سیگیوٹی کو شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنائی۔ اپنے سے زیادہ قد آور حریف کے خلاف انہوں نے ابتدا ہی سے جارحانہ انداز اپنایا اور مسلسل حملوں سے مقابلے پر مکمل گرفت برقرار رکھی۔ ان کی شاندار کارکردگی کے باعث مقابلہ دو راؤنڈ مکمل ہونے سے پہلے ہی ختم ہوگیا اور انہوں نے اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کر لیا۔
پنجاب کے شہر سرگودھا سے تعلق رکھنے والی فاطمہ زہرا اس وقت پاکستان ویمنز باکسنگ ٹیم کی کپتان بھی ہیں۔ انہوں نے گزشتہ چند برسوں میں مسلسل محنت کے ذریعے قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔
فاطمہ زہرا بھارتی لیجنڈ باکسر اور چھ مرتبہ کی عالمی چیمپیئن میری کوم سے متاثر ہیں۔ انہوں نے متعدد مواقع پر کہا ہے کہ میری کوم کی جدوجہد اور کامیابیوں نے انہیں باکسنگ میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔ گلاسگو روانگی سے قبل بھی ان کا ہدف پاکستان کے لیے ایک تاریخی کامیابی حاصل کرنا تھا، جسے انہوں نے حقیقت کا روپ دے دیا۔
فاطمہ نے 2018 میں باکسنگ کیریئر کا آغاز کیا تھا، جہاں انہیں اپنے پہلے باضابطہ مقابلے میں شکست ہوئی۔ تاہم انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی خامیوں پر کام کرتے ہوئے 2021 سے 2025 تک مسلسل پانچ برس قومی چیمپیئن رہیں، جس کے بعد وہ پاکستان کی نمبر ون خاتون باکسر کے طور پر ابھریں۔
2025 میں انہوں نے اسلامک سالیڈیرٹی گیمز میں پاکستان کے لیے کانسی کا تمغہ جیت کر بین الاقوامی سطح پر اپنی شناخت بنائی، جبکہ کامن ویلتھ گیمز 2026 میں تاریخی کانسی کا تمغہ جیت کر وہ پاکستان کی پہلی خاتون باکسر بن گئیں جنہوں نے اس ایونٹ میں ملک کے لیے میڈل حاصل کیا۔



