اسلام آباد ( نئی تازہ ڈیسک) وفاقی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پاکستان تحریک انصاف کے مجوزہ لانگ مارچ پر مذاکرات رات گئے بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گئے۔ حکومتی نمائندوں نے الزام عائد کیا کہ خیبر پختونخوا کی قیادت کی جانب سے بار بار مداخلت کے باعث مشترکہ مسودہ حتمی شکل اختیار نہیں کر سکا۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق کی صدارت میں ہونے والے مذاکرات کا دوسرا دور رات دو بجے کے بعد بھی جاری رہا اور تقریباً تین بجے کے قریب اختتام پذیر ہوا۔ مذاکرات میں شریک پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسودے میں چار مرتبہ تبدیلیاں کی گئیں اور فریقین اپنی جماعتی قیادت سے مسلسل مشاورت کرتے رہے۔
وزیراعظم کے سیاسی امور پر مشیر رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا بنیادی محور خیبر پختونخوا میں امن و امان اور دہشت گردی کی صورت حال تھا۔ حکومت کا مطالبہ تھا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف مؤثر کردار ادا کرے، تاہم اپوزیشن اس معاملے پر تعاون پر آمادہ نہیں ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کے معاملے پر حکومت نے لچک دکھائی، لیکن دیگر اہم امور پر اتفاق نہ ہو سکا۔
رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کا مجوزہ لانگ مارچ اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جن نکات پر اتفاق نہیں ہو سکا وہ سب کے سامنے ہیں، تاہم دہشت گردی کے خلاف تعاون کی صورت میں مستقبل میں مذاکرات کا دروازہ کھلا رہ سکتا ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ ان کی جماعت چاہتی تھی کہ مذاکرات کامیاب ہوں، تاہم فریقین ابھی اس نتیجے پر نہیں پہنچ سکے کہ مذاکرات کا اگلا مرحلہ کب ہوگا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف کا لانگ مارچ اپنے شیڈول کے مطابق ہوگا۔ انھوں نے متنبہ کیا کہ لانگ مارچ کی آڑ میں ایسے اقدامات نہیں کیے جانے چاہییں جن سے خیبر پختونخوا کے عوام میں نفرت، تقسیم یا تناؤ پیدا ہو، یا صوبے کے مینڈیٹ، خودمختاری اور اختیارات متاثر ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حقوق اور عوامی مینڈیٹ کے خلاف کسی اقدام کی گنجائش نہیں اور ایسے اقدامات اٹھارویں ترمیم کی روح سے بھی متصادم ہوں گے۔ بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ لانگ مارچ کا جواب ایمرجنسی یا گورنر راج نہیں ہونا چاہیے۔
وفاقی وزیر طلال چوہدری نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کے دوران متعدد معاملات پر اتفاق رائے پیدا ہو گیا تھا، لیکن خیبر پختونخوا کی قیادت کی ہدایات پر مسودہ بار بار تبدیل کیا جاتا رہا۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے تیار نہیں اور اسی وجہ سے مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکے۔ انھوں نے کہا کہ صوبے میں جانوں کے ضیاع پر مزید انتظار ممکن نہیں، تاہم جو بھی فیصلہ ہوگا آئین اور قانون کے مطابق ہوگا۔
حکومتی مذاکراتی ٹیم کے رکن سید نوید قمر نے کہا کہ چار مرتبہ مسودہ حتمی شکل کے قریب پہنچا لیکن ہر بار اسے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کو بھیجا جاتا تھا اور وہاں سے نئی ترامیم آ جاتی تھیں۔ ان کا الزام تھا کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کیا گیا۔ ان کے مطابق مسودے میں لانگ مارچ ختم کرنے کی شق بھی شامل تھی، تاہم اپوزیشن نے دہشت گردی سے متعلق نکات پر اعتراضات اٹھائے۔
وفاقی وزیر امیر مقام نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی قیادت مذاکرات میں پیش رفت کے باوجود لانگ مارچ کے فیصلے سے پیچھے ہٹنے پر تیار نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکراتی ٹیم بعض مسودات پر رضامند ہو جاتی تھی لیکن بعد میں خیبر پختونخوا کی قیادت کی جانب سے انھیں مسترد کر دیا جاتا تھا۔
حکومتی وفد میں وزیر داخلہ محسن نقوی، رانا ثنا اللہ، امیر مقام، طلال چوہدری اور پیپلز پارٹی کی نمائندہ شیری رحمان، نوید قمر اور اعجاز جکھرانی شامل تھے۔ اپوزیشن کے وفد میں بیرسٹر گوہر علی خان، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس، اسد قیصر، سلمان اکرم راجہ، عامر ڈوگر اور حلیم عادل شیخ شامل تھے۔ مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ ابھی طے نہیں ہو سکی۔




