پشاور: پشاور کے علاقے دیر کالونی میں جمعرات کو ایک نجی سکول کی چھت گرنے سے 17 طلبہ اور ایک خاتون ٹیچر سمیت کم از کم 22 افراد جاں بحق جبکہ 40 سے زائد زخمی ہوگئے۔
یہ واقعہ کالج روڈ پر واقع الخیر اسکول سسٹم میں پیش آیا، جہاں چھت گرنے سے طلبہ اور عملہ ملبے تلے دب گئے۔ لیڈی ریڈنگ اسپتال (ایل آر ایچ) کے ترجمان محمد عاصم کے مطابق جاں بحق ہونے والے تمام بچوں کی عمریں 13 سال یا اس سے کم تھیں۔ واقعے کے بعد اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔
ریسکیو 1122 کی ٹیمیں ایمبولینسوں اور خصوصی امدادی گاڑیوں کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ حکام کے مطابق ابتدائی طبی امداد کے بعد 40 سے زائد زخمی طلبہ اور اساتذہ کو لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کیا گیا۔ ملبے سے مزید متاثرین کو نکالے جانے کے ساتھ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ کیپیٹل سٹی پولیس افسر ڈاکٹر میاں سعید نے بھی زخمیوں کی تعداد 40 سے زیادہ بتائی۔
ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری رہیں، جبکہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ کچھ بچے اب بھی ملبے کے نیچے موجود ہوسکتے ہیں۔
خیبر پختونخوا کی مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور نے واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو زخمیوں کو بروقت طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ریسکیو 1122 کی فوری کارروائی کو سراہا اور ملبے تلے دبے ممکنہ افراد کو نکالنے کے لیے امدادی سرگرمیاں تیز کرنے پر زور دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو متاثرین کو ہر ممکن طبی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی۔



