اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری نے اتوار کو آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی سمری پر دستخط کر دیے۔ صدارتی اعلان پر فوری طور پر عمل درآمد ہوگا۔
ایوان صدر کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے صوبے کی بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورت حال کے پیش نظر وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس کی منظوری دی۔ اس فیصلے سے قبل وفاقی کابینہ نے بھی منظوری دی تھی۔ بیان میں متعلقہ اداروں کی جانب سے امن و امان کی صورت حال سے متعلق رپورٹس اور مذاکرات کی ناکامی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
صدارتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس سے شہریوں کی جان و مال کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ سرکاری تنصیبات، بنیادی ڈھانچے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
حکم نامے کے مطابق صوبائی حکومت دہشت گردی اور بدامنی پر قابو پانے کے لیے مطلوبہ عزم ظاہر کرنے اور مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا کی جانب سے بھیجی گئی رپورٹ میں صوبے میں آئینی نظام کے مفلوج ہونے اور صوبائی حکومت کی جانب سے آئین کے مطابق امور انجام دینے میں ناکامی کی نشاندہی کی گئی تھی۔ صدارتی حکم نامے کے مطابق سنگین صورت حال کے پیش نظر فوری آئینی اقدام ضروری تھا۔
آئین کے آرٹیکل 232(1) اور 234(1) کے تحت جاری کیے گئے اعلان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں صوبائی حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جا سکتی۔
حکم نامے کے تحت وفاقی حکومت گورنر خیبر پختونخوا کو صوبائی حکومت کے تمام یا بعض اختیارات اور فرائض سنبھالنے کی ہدایت دے سکتی ہے۔ گورنر وفاقی حکومت کی جانب سے تفویض کردہ اختیارات استعمال کریں گے۔ صوبائی اسمبلی کے علاوہ صوبے کے دیگر اداروں اور حکام کے تمام یا بعض اختیارات بھی وفاقی حکومت کی ہدایت پر گورنر استعمال کر سکیں گے۔
حکم نامے کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کے اختیارات پارلیمنٹ یا اس کی اتھارٹی کے تحت استعمال کیے جائیں گے۔
اس فیصلے کے نتیجے میں وزیراعلیٰ، صوبائی وزرا، مشیران، معاونین خصوصی اور ایڈووکیٹ جنرل فوری طور پر اپنے عہدوں سے سبکدوش ہو جائیں گے۔



