اسلام آباد: پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے جمعرات کو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی قراردادیں 214 ووٹوں کے مقابلے میں 56 ووٹوں سے کثرت رائے سے منظور کر لیں۔ اس سے چار روز قبل وفاقی حکومت کے اٹھائے گئے اقدامات کی باضابطہ توثیق ہو گئی۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت دونوں قراردادیں پیش کیں۔ اجلاس کی صدارت قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے کی۔ سینیٹ کے چیئرمین یوسف رضا گیلانی، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور دیگر ارکان بھی موجود تھے۔
وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا تھا اور اس کی وجہ صوبائی حکومت کی دہشت گردی کے خلاف اقدامات سے عمداً لاتعلقی قرار دی تھی۔ ایک روز قبل قومی اسمبلی اور سینیٹ نے الگ الگ اجلاسوں میں ایمرجنسی کے صدارتی فرمان کی توثیق کر لی تھی۔ اجلاس میں آرٹیکل 232(7) کے تحت ایمرجنسی کے صدارتی فرمان سے متعلق دستاویزات اور آرٹیکل 234(3) کے تحت گورنر راج سے متعلق دستاویزات پیش کی گئیں۔
اجلاس کے آغاز پر طارق فضل چوہدری نے پارلیمنٹ (مشترکہ اجلاس) کے قواعد 1973 کے تحت تحریک پیش کی۔ اس موقع پر اپوزیشن ارکان نے احتجاج کیا، ’ایمرجنسی نا منظور‘ کے نعرے لگائے اور پلے کارڈز اٹھاکر احتجاج کیا۔ اسپیکر ایاز صادق نے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی حمایت پر ارکان کی گنتی کا حکم دیا۔ اس کے بعد طریقہ کار کی تحریک اور دونوں قراردادیں56 کے مقابلے میں 214 ووٹوں کے اکثریت سے منظور ہو گئیں۔
پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم پاکستان کے ارکان نے ان اقدامات کی حمایت کی۔ پی ٹی آئی سمیت اپوزیشن کے بیشتر ارکان نے ایوان میں احتجاج کیا۔ اجلاس کے آغاز پر پشاور میں اسکول کی چھت گرنے کے واقعے میں جاں بحق ہونے والوں کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان کو بتایا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے دوران صوبے کے امور چلانے کے لیے خصوصی طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی صورتحال سے متعلق رپورٹس کے جائزے کے بعد وفاقی کابینہ نے ان اقدامات کی سفارش کی تھی اور صدر نے اسے منظور کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ نے ایک روز قبل آئینی تقاضوں کے مطابق ایمرجنسی کے فرمان کی بحث کے بعد منظوری دے دی تھی۔



