لاہور: جدید ترین سفری سہولیات کی حامل ماڈل قراقرم ایکسپریس کا پرائیویٹ سیکٹر کے تحت باقاعدہ آپریشن شروع ہو گیا ہے۔
پاکستان ریلوے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد حفیظ اللہ نے میسرز پرائم ریل کے ڈائریکٹرز کے ہمراہ لاہور ریلوے اسٹیشن پر ٹرین کا باضابطہ افتتاح کیا اور مسافروں کے ساتھ کراچی کے لیے روانہ کیا۔
نجی کمپنی ‘میسرز پرائم ریل’ نے 6 نومبر تک تمام کلاسز کے کرایوں میں 25 فیصد ڈسکاؤنٹ کا اعلان کیا ہے۔ ٹرین کل 20 بوگیوں پر مشتمل ہے جس میں اے سی سلیپر، اے سی بزنس، اے سی اسٹینڈرڈ اور اکانومی کلاسز شامل ہیں۔ مسافروں کو منرل واٹر، تازہ کھانا، بستر، موبائل چارجنگ پوائنٹس، وائی فائی اور انفوٹینمنٹ سسٹم کی سہولت فراہم کی جائے گی، جبکہ اے سی سلیپر اور اے سی بزنس کلاسز میں یہ خدمات مفت میسر ہوں گی۔
قراقرم ایکسپریس لاہور اور کراچی سے بیک وقت دن 3 بجے روانہ ہوا کرے گی۔ یہ رائے ونڈ، ساہیوال، خانیوال، بہاولپور، روہڑی، نواب شاہ، حیدرآباد، لانڈھی اور ڈرگ روڈ پر رکتے ہوئے ہوئے دونوں شہروں کے درمیان فاصلہ 19 گھنٹے میں طے کرے گی۔
6 نومبر تک رعایتی کرایوں میں اے سی سلیپر کا کرایہ 12,600 روپے، اے سی بزنس 9,550 روپے، اے سی اسٹینڈرڈ 7,550 روپے اور اکانومی کلاس کا کرایہ 4,150 روپے مقرر کیا گیا ہے۔ انہی شرحوں پر اے سی سلیپر اور اے سی بزنس کے مسافروں کو آن بورڈ مفت سہولیات بھی دی جائیں گی۔
پاکستان ریلوے نے قراقرم ایکسپریس کی کمرشل مینجمنٹ 3.9015 ارب روپے سالانہ کے عوض میسرز پرائم ریل کے سپرد کی ہے۔



