اسلام آباد( خصوصی رپورٹر) وفاقی کابینہ نے وزارت مذہبی امور کی جانب سے پیش کردہ پرائیویٹ حج پالیسی 2027-2030 کی منظوری دے دی، جس میں شفافیت، احتساب اور حجاج کرام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اہم اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں۔
وزارت کے ترجمان کے مطابق، چار سالہ نئی پالیسی پاکستان کے پرائیویٹ حج سسٹم کو سعودی عرب کے وژن 2030 سے ہم آہنگ کرے گی اور کوٹہ پر مبنی موجودہ نظام کی جگہ کارکردگی اور تعمیل پر مبنی فریم ورک لاگو کیا جائے گا۔
نئی پالیسی کے تحت تمام موجودہ حج آپریٹرز کا ازسرِنو جائزہ لینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ پرائیویٹ حج کوٹہ کی تقسیم ‘فرسٹ کم، فرسٹ سرو’ کی بنیاد پر ہوگی، جبکہ ہر آپریٹر کو کم از کم 2,000 حجاج کی بکنگ یقینی بنانی ہوگی۔ اس شرط کو پورا نہ کرنے والی کمپنیاں غیرفعال قرار دی جائیں گی۔
پالیسی کے مطابق، غیرمعیاری کارکردگی دکھانے والی کمپنیوں کا 50 فیصد سکیورٹی ڈپازٹ ضبط کر لیا جائے گا، جبکہ متاثرہ حجاج کو خودکار طور پر دوسرے آپریٹرز کے حوالے کر دیا جائے گا۔ تمام حج کمپنیوں کا ماہرین کے ذریعے آزادانہ جائزہ اور درجہ بندی کی جائے گی، اور لائسنس تین سال کے لیے جاری ہوں گے۔ حج کوٹہ کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، اور کارٹلائزیشن و اجارہ داری کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
وزارت کا کہنا ہے کہ پرائیویٹ حج آپریشنز مکمل طور پر ڈیجیٹل کر دیے جائیں گے، اور بکنگ کا عمل صرف پرائیویٹ حج مینجمنٹ پورٹل (PHMP) کے ذریعے ہوگا۔ اس پورٹل کو نادرا اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے مربوط کیا جائے گا۔ دستی بکنگ اور نقد لین دین پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ حج کمپنیاں حجاج کے فنڈز اپنے پاس نہیں رکھ سکیں گی، بلکہ سعودی سروس فراہم کنندگان کو ادائیگیاں براہِ راست اسٹیٹ بینک کے آفیشل اکاؤنٹ کے ذریعے کی جائیں گی۔
یاد رہے کہ رواں سال پرائیویٹ حج کے بحران کے نتیجے میں تقریباً 67,000 پاکستانی حج ادا کرنے سے محروم رہ گئے تھے، جب کئی آپریٹرز سعودی ڈیڈلائن کے اندر ادائیگیوں اور معاہدوں کو مکمل کرنے میں ناکام رہے تھے۔ اس واقعے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے انکوائری، پارلیمانی احتساب اور پرائیویٹ آپریٹرز و ریگولیٹری فریم ورک پر شدید تنقید کی گئی تھی۔
وزارت کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات کا مقصد پاکستانی حجاج کے لیے ایک شفاف، موثر اور جواب دہ پرائیویٹ حج مینجمنٹ سسٹم فراہم کرنا ہے، جو سعودی وژن 2030 کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو اور مستقبل میں کسی بھی قسم کی بدانتظامی یا دھوکہ دہی کے امکانات کو ختم کرے۔



