اسلام آباد( نئی تازہ ڈیسک) حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یکمشت بڑا اضافہ کر دیا ہے جس کے بعد پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ وفاقی وزراء کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے یہ مشکل فیصلہ کرنا پڑا، تاہم غریب طبقے، کسانوں اور ٹرانسپورٹرز کو اس کے اثرات سے بچانے کے لیے خصوصی سبسڈی اور مالی امداد بھی فراہم کی جائے گی۔
وزارتِ خزانہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے 24 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس سے نئی قیمت 458 روپے 41 پیسے ہوگئی ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 184 روپے 49 پیسے بڑھا کر 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی 34 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ حکومت نے ڈیزل پر عائد لیوی ختم کر دی ہے تاکہ مال برداری کے اخراجات نہ بڑھیں، جبکہ پیٹرول پر لیوی کی شرح میں اضافہ کیا گیا ہے
عوام کو ریلیف دینے کے لیے حکومت نے اعلان کیا ہے کہ موٹر سائیکل سواروں کو ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی ملے گی۔ چھوٹے کسانوں کو فی ایکڑ 1,500 روپے امداد دی جائے گی جبکہ مسافر بسوں اور ٹرکوں کے لیے 70 ہزار سے ایک لاکھ روپے ماہانہ تک کی مالی معاونت کا پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بجلی کی بچت کے لیے ملک بھر میں مارکیٹیں جلد بند کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے تاکہ 1,200 میگا واٹ بجلی بچائی جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کیے گئے ہیں تاکہ معاشی استحکام کو برقرار رکھا جا سکے۔




