اسلام آباد ( نئی تازہ رپورٹ) مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سیکیورٹی صورتحال کے باعث پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان جاری تیسرے اقتصادی جائزے کے مذاکرات کا رخ تبدیل ہو گیا ہے۔ آئی ایم ایف کا جائزہ مشن اسلام آباد میں ابتدائی ملاقاتوں کے بعد واپس روانہ ہو گیا ہے، جس کے بعد اب مذاکرات کا بقیہ مرحلہ ورچوئل فارمیٹ پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
وزارتِ خزانہ کے ذرائع کے مطابق، وفد کی جسمانی موجودگی کے بجائے اب تمام میٹنگز آن لائن ہوں گی۔ اگرچہ سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر یہ فیصلہ اچانک سامنے آیا ہے، تاہم حکام کا اصرار ہے کہ بات چیت کے شیڈول میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی اور تمام تکنیکی سیشنز طے شدہ ایجنڈے کے مطابق ہی مکمل ہوں گے۔ 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کے حصول کے لیے یہ جائزہ پاکستان کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔
مذاکرات کے آغاز میں مشن چیف ایوا پیٹرووا اور وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کے درمیان اہم ملاقات ہوئی۔ وزیرِ خزانہ نے وفد کو معیشت کی درست سمت اور قرض پروگرام پر عملدرآمد کے حوالے سے اعتماد میں لیا۔ ملاقات کے دوران پیش کیے گئے اہم اعداد و شمار درج ذیل ہیں:
مہنگائی: دسمبر 2025 تک مہنگائی کی شرح نمایاں کمی کے ساتھ 5.2 فیصد پر آ چکی ہے۔
شرحِ سود: مانیٹری پالیسی میں نرمی کے بعد شرحِ سود 22 فیصد سے کم ہو کر 10.5 فیصد رہ گئی ہے۔
زرمبادلہ کے ذخائر: ملکی ذخائر 16 ارب ڈالر کی سطح عبور کر چکے ہیں۔
کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ: خسارے کو 1.17 ارب ڈالر تک محدود رکھا گیا ہے۔
صنعتی ترقی: بڑی صنعتوں (LSM) کی پیداوار میں 6 فیصد بہتری ریکارڈ کی گئی۔
ایف بی آر نے پہلی ششماہی کی رپورٹ پیش کی، جس میں انکشاف ہوا کہ ٹیکس ریونیو جولائی تا دسمبر کے ہدف سے 329 ارب روپے کم رہا۔ اس کمی کی وجوہات میں معاشی سست روی اور مہنگائی میں کمی بتائی گئی ہیں۔ آئی ایم ایف نے مجموعی اصلاحات کو تو سراہا ہے، تاہم ریونیو بڑھانے کے لیے مزید سخت اقدامات پر زور دیا ہے۔
ورچوئل مذاکرات کے اگلے مرحلے میں درج ذیل نکات پر توجہ مرکوز رہے گی
زرعی انکم ٹیکس: صوبائی ٹیکس محاصل، بالخصوص زرعی آمدن پر ٹیکس کے نفاذ کا جائزہ۔
نجکاری: پی آئی اے سمیت دیگر سرکاری اداروں کی نجکاری میں ہونے والی پیش رفت۔
اخراجات کا پلان: حکومت کی جانب سے اخراجات کو کنٹرول کرنے کا ترجیحی منصوبہ۔
بیرونی فنانسنگ: مستقبل کی ادائیگیوں اور بیرونی فنڈنگ کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ۔



