اسلام آباد: وفاقی حکومت نے نئی آٹو پالیسی کا اعلان کر دیا ہے جس کا مقصد گاڑیوں کی قیمتوں میں بتدریج کمی، الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینے اور گاڑیوں کی برآمدات بڑھانا ہے۔ حکومت نے آئندہ پانچ سال میں آٹو سیکٹر کی برآمدات 20 کروڑ ڈالر سے بڑھا کر 6 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے ہفتے کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران نئی پالیسی کی تفصیلات بتائیں۔
ہارون اختر خان کے مطابق لگژری گاڑیوں کے سوا دیگر گاڑیوں کی قیمتوں میں بتدریج کمی آئے گی۔ اس مقصد کے لیے مکمل تیار گاڑیوں، پرزہ جات اور خام مال پر عائد ڈیوٹیز میں پانچ سال کے دوران مرحلہ وار کمی کی جائے گی، جس سے گاڑیوں کی پیداواری لاگت بھی کم ہوگی۔
نئی پالیسی کے تحت آٹو مینوفیکچررز کے لیے مقامی سطح پر پرزہ جات کی تیاری اور برآمدات کے اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ برآمدی اہداف پورے کرنے والی کمپنیوں کو مقامی ٹیکسوں اور لیویز پر 5 فیصد ڈرا بیک جبکہ اضافی برآمدات پر مزید 10 فیصد مراعات دی جائیں گی۔ تاہم برآمدات اور مقامی پیداوار کے اہداف حاصل نہ کرنے والی کمپنیوں کو جرمانوں اور مراعات سے محرومی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے لیے ٹیکس میں رعایت
حکومت نے الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے بھی متعدد مراعات تجویز کی ہیں۔ ان کے تحت مکمل الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس ایک فیصد، رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک گاڑیوں پر 6 فیصد اور ہائبرڈ گاڑیوں پر 9 فیصد رکھنے کی تجویز ہے، تاہم ان اقدامات کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منظوری درکار ہوگی۔
50 ہزار ڈالر تک قیمت کی الیکٹرک گاڑیوں کو کیپیٹل ویلیو ٹیکس، ودہولڈنگ ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے استثنیٰ دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری کے لیے فنانسنگ کی حد 30 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کر دی گئی ہے، جبکہ قرض کی واپسی کی مدت تین سے بڑھا کر پانچ سال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ چارجنگ اسٹیشنز کے لیے کسٹمز ڈیوٹی میں بھی رعایت دی گئی ہے۔
پالیسی میں گاڑیوں کے تحفظ اور معیار کو بہتر بنانے کے لیے اقوام متحدہ کے ڈبلیو پی 29 ضابطے کے مطابق 45 اضافی حفاظتی معیارات متعارف کرانے کی تجویز بھی شامل ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ نئی پالیسی سے پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات پر اخراجات اور کاربن کے اخراج میں کمی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور گاڑیوں کی برآمدات بڑھانے میں مدد ملے گی۔ تاہم ایک ہزار سی سی سے کم انجن والی پیٹرول گاڑیاں پالیسی کی بڑی تبدیلیوں سے مستثنیٰ رہیں گی۔
نئی پالیسی کے تحت گاڑیوں کی بکنگ کے وقت کمپنیوں کو مجموعی قیمت کا 20 فیصد سے زیادہ ایڈوانس وصول کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
حکومت کے مطابق پالیسی کے مسودے کو متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد حتمی شکل دی گئی ہے اور وزیراعظم نے اس کی منظوری دے دی ہے۔ اب اسے باضابطہ منظوری کے لیے وفاقی کابینہ میں پیش کیا جائے گا، جبکہ بعض ٹیکس اقدامات کا نفاذ آئی ایم ایف کی رضامندی سے مشروط ہوگا۔




