اسلام آباد ( نئی تازہ ڈیسک) وفاقی آئینی عدالت نے مارگلہ ہلز پر واقع معروف مونال ریسٹورنٹ گرانے سے متعلق سپریم کورٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے سی ڈی اے اور میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (ایم سی آئی) کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے حکمِ امتناعی بھی ختم کر دیا اور ٹرائل کورٹس کو ہدایت کی کہ وہ زمین کی ملکیت سے متعلق مقدمات کا جلد اور آزادانہ فیصلہ کریں۔
سماعت کے دوران وفاقی آئینی عدالت کے جج جسٹس حسن اظہر رضوی نے سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے پر اہم قانونی نکات اٹھائے۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ پہلے فیصلے میں کئی قانونی اور تکنیکی پہلوؤں کو نظر انداز کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت صرف ریکارڈ اور قانون کی بنیاد پر فیصلہ کرے گی، جذبات کی بنیاد پر نہیں۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے مزید کہا کہ سابقہ فیصلے میں بعض ایسی باتیں بھی شامل کی گئیں جن کا عدالتی کارروائی سے براہِ راست تعلق نہیں تھا۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ مونال ریسٹورنٹ کی زمین کی ملکیت کا حتمی فیصلہ ٹرائل کورٹس کریں گی اور وہ اس حوالے سے کسی سابقہ عدالتی آبزرویشن سے متاثر نہیں ہوں گی۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ علاقے سے متعلق انتظامی اور ریگولیٹری معاملات متعلقہ ادارے قانون کے مطابق طے کریں گے۔
یہ تنازع جون 2024 میں سامنے آیا تھا، جب اُس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں قائم مونال ریسٹورنٹ سمیت تمام تجارتی سرگرمیوں کو بند کرنے اور تعمیرات ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ محفوظ قومی پارک میں تجارتی سرگرمیاں ماحولیاتی قوانین اور تحفظِ جنگلی حیات کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتیں۔
مونال ریسٹورنٹ جس زمین پر قائم تھا، اس کی ملکیت کئی برسوں سے قانونی تنازع کا شکار رہی ہے۔ اس معاملے میں کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)، میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (ایم سی آئی) اور ملٹری اسٹیٹ حکام کے درمیان مختلف دعوے زیرِ سماعت رہے ہیں۔ وفاقی آئینی عدالت کے تازہ فیصلے کے بعد اب یہ معاملہ دوبارہ ٹرائل کورٹس کے پاس جائے گا، جہاں دستیاب شواہد، ریکارڈ اور قانون کی روشنی میں زمین کی ملکیت کا فیصلہ کیا جائے گا، جبکہ انتظامی امور متعلقہ ادارے نمٹائیں گے۔



